حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے شہر ممبئی کے نواحی علاقے کلیان سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، عمائدین اور مومنین کے ایک وفد نے ایرانی قونصلیٹ (ایمبیسی) ممبئی میں حاضر ہو کر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت اور مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی، اور حالیہ سانحات میں شہید ہونے والے مومنین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
وفد نے اس موقع پر رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حکام اور عوام کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کی، اور اس عظیم سانحے کو امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔
شرکاء نے نئے رہبر، آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ تجدیدِ بیعت کا اعلان کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ رہبرِ انقلاب کے مشن، مقاومت اور دفاعِ مظلومین کے راستے پر ثابت قدم رہیں گے۔
وفد نے ایرانی نمائندہ آقائے مطلق اور دیگر ایرانی ذمہ داران سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ آج پوری امتِ مسلمہ بالخصوص ہندوستان کے مومنین، ایران کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ہر سطح پر اپنی اخلاقی، دینی اور انسانی حمایت جاری رکھیں گے۔
اس موقع پر مولانا فیروز (مدرس، امام باقرؑ بھیونڈی)، مولانا سید تابش حسن (امام جمعہ کلیان، ممبئی) اور دیگر علماء کرام نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ایران ہمیشہ مظلوموں کی آواز رہا ہے، اور آج اس پر ہونے والی جارحیت درحقیقت حق و باطل کی ایک کھلی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں امت کا فرض ہے کہ وہ متحد ہو کر ظلم کے خلاف آواز بلند کرے اور مقاومت کے محور کے ساتھ کھڑی ہو۔

مومنین نے بھی اس موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے عوام کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔ وفد کی جانب سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر 5 لاکھ 50 ہزار روپے کا ہدیہ بھی پیش کیا گیا۔
تقریب کے اختتام پر شہداء کے لیے فاتحہ خوانی اور دعائے سلامتیٔ امام زمان (عج) کی تلاوت کی گئی، جبکہ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور مظلومین کا ساتھ دینا ان کی دینی و انسانی ذمہ داری ہے۔









آپ کا تبصرہ